بنکاک،19/ستمبر (ایجنسی) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مائنمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کے قوم سے خطاب کے دوران روہنگیا مسلمانوں پر فوجی مظالم کی مذمت کرنے میں ناکامی پر سخت افسوس و برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہاکہ ریاست راکھین کے تشدد پر وہ شطر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھپاتے ہوئے چشم پوشی کی کوشش کررہی ہیں۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بنگلہ دیش پہونچنے والے روہنگیا پناہ گزینوں نے روہنگیا مسلم اکثریت کے خلاف نسل کشی و قتل عام کے لئے فوج پر اندھا دھند فائرنگ کرنے اور دیہاتوں کو نذر آتش کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاکہ ’’آنگ سان سوچی نے آج یہ دکھادیا کہ وہ اور ان کی حکومت، ریاست راکھین میں پیش آنے والے وحشت ناک واقعات سے چشم پوشی کے لئے اپنے سر ہنوز ریت میں دفن کئے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ان (آنگ سان سوچی) کا خطاب جھوٹ کا پلندہ اور مظلوموں پر الزامات کے سوا اور کچھ نہیں ہے‘‘۔ انسانی حقوق کے اس بین الاقوامی ادارہ نے مائنمار کے سکیورٹی فورسیس کو روہنگیائی مسلمانوں کے نسلی صفائے کی مہم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور سکیورٹی فورسیس کے مذموم کردار پر آنگ سان سوچی کی خاموشی پر سخت نکتہ چینی کی۔